اقبال کا صوفی

اقبال کا صوفی : رہبانیت کی نفی اور بیدارِ خودی کا سفر

علامہ محمد اقبالؒ کا فلسفہ محض شاعری نہیں بلکہ انسانی روح کی بیداری کا ایک مکمل نظامِ فکر ہے۔ اقبال کے اَفکار میں جہاں ’خودی‘، ’عشق‘ اور ’مردِ مومن‘ جیسے اصطلاحات مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔  وہاں ’تصوف‘ کا تصور بھی ایک منفرد جہت کا حامل ہے۔ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شایدعلامہ محمد اقبالؒ تصوف کے مخالف تھے، یا ان کا صوفی دنیا سے کنارہ کش،  کوئی گوشہ نشین درویش ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اقبال جس صوفی کی تصویر کشی کرتے ہیں، وہ دنیا سے بے زار نہیں بلکہ دنیا کو بدلنے کی ہمت و جرات رکھتا ہے۔

عصرِ حاضر میں تصوف کے حوالے سے کئی فکری مغالطے رائج ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تصوف انسان کو زندگی کے عملی میدان سے بےزار کر دیتا ہے۔ ایک عام تاثر یہ  بھی ہے کہ صوفی وہ ہے جس کا دنیا اور اس کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسے ’رہبانیت‘ یعنی دنیا کو ترک کر کے غاروں یا خانقاہوں میں مقیم ہونے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔اقبال ان تمام نظریات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ تصوف جو انسان کو نکما بنا دے، اس کی قوت اور صلاحیت  کو مفلوج کر دے اور اسے تقدیر کے بہانے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے کی تلقین کرے، وہ اسلامی نہیں بلکہ ’عجمی‘ یا غیر اسلامی تصوف ہے۔ اقبال کا صوفی جمود کا شکار نہیں بلکہ حرکت اور مسلسل انقلاب کا داعی ہے۔

تصوف کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے زندگی کی اصل حقیقت کو سمجھنا ،  ناگزیر ہے۔ لغوی اعتبار سے زندگی محض سانس لینے اور جسمانی حرکت کا نام ہے، لیکن قرآنی اور اقبالی نقطہ نظر سے زندگی ایک عظیم امتحان اور مسلسل جدوجہد  کا نام ہے۔قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے جس کا مفہوم ہے کہ اللہ نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا ، تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے، کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے بہترین کون ہے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں زندگی کی قدر و قیمت پر بے حد زور دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جاننے کی تلقین فرمائی، جن میں زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جاننا شامل ہے۔

اقبال کے نزدیک زندگی ’جدوجہد‘ اور ’ارتقائے خودی‘ کا نام ہے۔ وہ فرماتے ہیں:۔

مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحبِ فروغ

عشق ہے اصل حیات، موت ہے اس پر حرام

علامہ اقبالؒ کے نزدیک وہ زندگی جو تڑپ، تگ و دو اور انقلاب سے خالی ہو، وہ حقیقت میں موت کے مترادف ہے۔ ان کا صوفی زندگی کو گزارتا نہیں بلکہ اسے بھرپور طریقے سے جیتا ہے۔اقبال نے تصوف کو کلی طور پر مسترد نہیں کیا بلکہ اس کی فکری اصلاح کی۔ تصوف کا اصل مقصد ’باطن کا تزکیہ‘ ہے۔ یعنی اپنے دل کو دنیاوی کدورتوں  اور غیر اللہ کی محبت سے پاک کر کے خالصتاً اللہ کی طرف رجوع کرنا۔

اقبال نے اس ’عجمی تصوف‘ پر کڑی تنقید کی جو مسلمانوں میں غیر اسلامی اثرات کے باعث  پھیل  چکا تھا۔ یہ وہ تصوف تھا جو ترکِ عمل، دنیا سے فرار اور گوشہ نشینی سکھاتا تھا۔ اقبال ایسے صوفی کے سخت خلاف تھے،  جو انسانیت کی خدمت اور معاشرتی ذمہ داریوں سے منہ موڑ کر صرف اپنی نجات کی فکر کرے۔

اس کے برعکس، اقبال اس ’حقیقی تصوف‘ کے قائل تھے،  جو انسان کو ’با عمل‘، ’با حوصلہ‘ اور ’غیرت مند‘ بنائے۔  جس طرح وہ فرماتے ہیں کہ ’’ اگر تصوف سے مراد ’اخلاص فی العمل‘ ہے تو کسی مسلمان کو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا‘‘ ۔ اقبال خود صوفیا کے بے حد معتقد تھے، وہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے مزار پر حاضری دیتے، رومیؒ کو اپنا مرشدِ معنوی مانتے اور خود بھی بیعت تھے۔ ان کا اعتراض صوفی کی ذات پر نہیں بلکہ اس ’مردہ فکر‘ پر تھا جو خانقاہوں میں رواج پا گئی تھی۔

اقبال کا صوفی وہ ہے جو دنیا کے ہنگاموں میں رہ کر بھی اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو۔ وہ فراریت کا شکار ہونے کی بجائے،  باطل کے سامنے سینہ سپر ہوتا ہے۔ اقبال کا صوفی درج ذیل صفات کا حامل ہے:۔

دنیا میں رہتا ہے: وہ سماج کا حصہ بن کر اصلاحِ احوال کی کوشش کرتا ہے۔

عمل پر یقین رکھتا ہے: اس کی تسبیح کا دانہ بھی عمل کی قوت سے گھومتا ہے۔

خودی کا پاسبان ہے: وہ فقر کے باوجود کسی سلطان کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔

انقلاب برپا کرتا ہے: وہ حالات کے دھارے پر بہنے کی بجائے،  حالات کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اقبال کے نزدیک صوفی وہ ہے جو بدترین معاشرے اور گناہوں کی بہتات کے باوجود اپنے نفس پر قابو رکھے۔ اگر اسے برائی کی دعوت دی جائے،  تو وہ اللہ کے خوف سے اسے ٹھکرا دے۔ یہی وہ ’مردِ مومن‘ ہے، جسے اقبال صوفی کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

اقبال کے نزدیک خانقاہی نظام کا وہ جمود جو قوموں کو غلامی اور پستی کی طرف لے جائے، زہرِ قاتل ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ صوفی خانقاہ سے نکل کر امت کی رہنمائی کرے۔ انھوں نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ

کل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری

کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

’رسمِ شبیری‘ سے مراد باطل کے خلاف ڈٹ جانا اور حق کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دینا ہے۔ اقبال کا صوفی صرف دعاگو نہیں بلکہ وہ وقت پڑنے پر شمشیر و سناں کا دھنی بھی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اقبال کا فلسفہِ تصوف ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے دنیا کو ترک کرنا لازمی نہیں، بلکہ دنیا کے اندر رہتے ہوئے احکامِ الہی کی پابندی کرنا ہی اصل کمال ہے۔ دنیا کو اقبال ’آخرت کی کھیتی‘ قرار دیتے ہیں، اور اس کھیتی کی آبیاری عملِ پیہم اور عشقِ رسول ﷺ سے ہی ممکن ہے۔اقبال ہمیں اس بزدلانہ گوشہ نشینی سے نکال کر اس بہادرانہ درویشی کی طرف بلاتے ہیں، جو اپنے ہاتھ میں کائنات کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتی ہو۔ ہمیں آج کے دور میں ایسے ہی صوفی کی ضرورت ہے، جس کا دل عشقِ الہی سے منور ہو اور جس کا ہاتھ عمل کے میدان میں سب سے آگے ہو۔

Leave a Comment