علامہ اقبال کا تصورِ زمان و مکاں

علامہ اقبال کا تصورِ زمان و مکاں : مابعد الطبیعات اور جدید فزکس کا سنگم

کائنات کے اسرار و رموز میں ‘زمان یعنی وقت’ اور ’مکاں ‘دو ایسے بنیادی عناصر ہیں۔ جنھوں نے صدیوں سے مفکرین، سائنسدانوں اور صوفیاء کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ جہاں نیوٹن اور آئن سٹائن جیسے سائنسدانوں نے اسے مادی اور ریاضیاتی پیرائے میں سمجھنے کی کوشش کی، وہاں علامہ محمد اقبالؒ جیسے فلسفی نے قرآنِ پاک کی روشنی اور اپنی فلسفیانہ بصیرت سے زمان و مکاں کی ایک ایسی تعبیر پیش کی جو انسان کو مادی قید سے آزاد کر کے ’’ خودی‘‘ کے لامتناہی افق تک لے جاتی ہے۔

زمان و مکاں کے لغوی اور اصطلاحی معنی

عام فہم زبان میں ’زمان‘ سے مراد وقت  یعنی ٹائم ہے، جب کہ ’مکاں‘ سے مراد جگہ یا مقام ہے۔ نیوٹن کے نزدیک وقت ایک مطلق یعنی نہ بدلنے والی حقیقت تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ  کائنات کے ہر کونے میں وقت کی رفتار ایک جیسی رہتی ہے۔ لیکن جدید فزکس میں البرٹ آئن سٹائن نے اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے ثابت کیا کہ وقت ‘اضافی’  ہے اور یہ مشاہدہ کار کی حرکت اور مقام کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے۔ علامہ اقبال نے نہ صرف اس سائنسی حقیقت کو تسلیم کیا بلکہ اسے اپنی فکرِ خودی کے ساتھ جوڑ کر ایک روحانی رخ عطا کیا۔

وقت کا نفسیاتی اور مادی تجربہ

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں وقت کے دو مختلف پہلوؤں کا تجربہ کرتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنی پسندیدہ کتاب پڑھ رہے ہوں یا کسی دل پسند گفت گو میں محو ہوں، تو گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ کسی کا انتظار کر رہے ہوں یا تکلیف میں ہوں، تو ایک ایک سیکنڈ صدیوں پر بھاری معلوم ہوتا ہے۔

اقبال اسی نکتے سے اپنی بحث کا آغاز کرتے ہیں کہ زندگی وقت کے اندر نہیں گزرتی، بلکہ زندگی خود وقت کو تخلیق کرتی ہے۔ وقت کا یہ احساس ہمارے باطنی تجربے سے جڑا ہوا ہے۔ رمضان المبارک میں عصر سے مغرب تک کا وقت اس کی بہترین مثال ہے، جہاں بظاہر وقت وہی ہوتا ہے مگر انسانی احساس کے لیے وہ ‘پھیل’  جاتا ہے۔

اقبالؒ اور ہنری برگساں کی ملاقات

علامہ اقبالؒ  کی فکر پر فرانسیسی فلسفی ہنری برگساں  کے اثرات بھی ملتے ہیں۔ ۱۹۳۲ء میں پیرس میں ہونے والی ملاقات میں ان دونوں مفکرین کے درمیان وقت کی حقیقت پر تفصیلی گفت گو ہوئی۔ برگساں نے وقت کو ‘خالص تسلسل’   قرار دیا تھا۔ اقبالؒ نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش کیا کہ وقت محض ‘گزرے ہوئے لمحات’ کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ ایک تخلیقی قوت ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک وقت ایک دائمی لمحہ ہے۔جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک وحدت میں پروئے ہوئے ہیں۔

تصورِ خودی اور زمان و مکاں کی قید سے آزادی

اقبال کے فلسفے کا مرکز ‘خودی’ ہے۔ ان کے نزدیک جو انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے۔ وہ زمان و مکاں کی مادی قیود سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اقبال کا مشہور شعر اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:۔

اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا

کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

وہ انسان جو سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کو ہی وقت سمجھتا ہے، وہ دراصل وقت کا غلام ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ‘روز و شب’ کی یہ گردش تو محض ایک ظاہری پردہ ہے۔ اصل وقت وہ ہے جو انسان کے اندر ہے اور جو اللہ کی صفتِ تخلیق سے جڑا ہوا ہے۔ حدیثِ قدسی ہے کہ “زمانے کو برا نہ کہو کیوں کہ میں ہی زمانہ ہوں”۔ اقبال اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ وقت اللہ کی ایک تخلیقی صفت ہے اور جب انسان اپنی خودی کو الٰہی صفات سے ہم آہنگ کر لیتا ہے، تو وہ کائنات کے تسلط سے باہر نکل جاتا ہے۔اقبالؒ قرونِ اولٰی کے مسلمانوں کی مثال دے کر فرماتے ہیں کہ انھوں نے کم وقت میں زیادہ کارنامے سر انجام دیے۔

مقام اور مکاں کی وسعت

مکاں یا جگہ کے حوالے سے اقبال کا نظریہ بہت بلند ہے۔ وہ انسان کو ایک جگہ رکنے کا درس نہیں دیتے بلکہ اسے ‘شاہین’ قرار دے کر نئی سے نئی منزلوں کی طرف پرواز کی ترغیب دیتے ہیں:۔

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

مقام کا تصور اقبال کے ہاں صرف جغرافیائی نہیں بلکہ معنوی بھی ہے۔ جب ایک انسان اپنی صلاحیتوں  یعنی سکلز  پر کام کرتا ہے، تو پہلے وہ اپنے گھر میں ممتاز ہوتا ہے، پھر محلے، شہر، ملک اور آخر کار بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بناتا ہے۔ یہ اس کے ‘مقام’ کی وسعت ہے۔ لیکن روحانی طور پر جب انسان خودی کی منازل طے کرتا ہے، تو وہ ‘لا مکاں’ تک پہنچ جاتا ہے جہاں مکان کی حدیں ختم ہو جاتی ہیں۔

معراجِ مصطفیٰ ﷺ: زمان و مکاں کی معراج

واقعۂ معراج کو زمان و مکاں کی اضافی حقیقت سمجھنے کے لیے ایک بہترین مثال  کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک ہی رات میں عرشِ معلیٰ تک جانا، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کرنا اور واپس لوٹنا(اور اس دوران دنیاوی وقت کا نہ گزرنا)     ثابت کرتا ہے کہ جب روح اپنی انتہا پر پہنچتی ہے، تو زمان و مکاں کے مادی قوانین  بے اثر ہو جاتے ہیں۔ یہ ‘مردِ کامل’ کی وہ حالت ہے جہاں وہ وقت کو اپنے تابع کر لیتا ہے۔

نتیجہِ فکر

علامہ اقبال کا تصورِ زمان و مکاں ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان محض گوشت پوست کا پتلا نہیں جو وقت کی چکی میں پسنے کے لیے پیدا ہوا ہے، بلکہ وہ اس کائنات کا رازداں ہے۔ اگر ہم اپنی خودی کو بیدار کر لیں، اپنے مقصدِ حیات کو پہچان لیں اور وقت کو صرف گھڑی کی سوئیوں سے ناپنے کی بجائے عمل اور تخلیق سے ناپنا شروع کر دیں، تو ہم ان تمام حدود کو توڑ سکتے ہیں جو ہمیں ترقی سے روکتی ہیں۔

آج کی جدید دنیا میں، جہاں ہم ٹیکنالوجی اور مادیت کے اسیر ہیں، اقبال کا یہ فلسفہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کی اصل حقیقت مادہ نہیں بلکہ ‘روح’ ہے اور وقت اللہ کا وہ تحفہ ہے جسے ہم اپنی خودی کے ذریعے لامتناہی بنا سکتے ہیں۔

Leave a Comment