مایوسی کے اندھیروں میں امید کی کرن (شکستہ دلوں کے لیے ایک پیغام)
انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے۔ جہاں کبھی خوشیاں ہمارا راستہ سجاتی ہیں، تو کبھی مشکلات اور پریشانیاں ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں۔ اکثر اوقات ہم زندگی کے ایسے موڑ پر کھڑے ہوتے ہیں۔ جہاں ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہوتا، کوئی مشورہ دینے والا نہیں ہوتا اور ہم خود کو مسائل کی دَلدل میں تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ مایوسی کے ایسے ہی عالم میں ہمیں کسی سہارے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا سہارا جو انسان کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دے ۔
اس سہارے کا نام ’’رحمت ‘‘ ہے۔رحمت دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ خاص ہدایت اور سکون ہے۔ جو انسان کو اس وقت ملتا ہے، جب وہ ہر طرف سے نااُمید ہو چکا ہوتا ہے۔ جب ہمیں ہدایت کی ضرورت ہو اور کوئی راستہ نہ سوجھ رہا ہو، تو اللہ کی رحمت ہی ہماری دست گیری کرتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ “میری رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا”۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑا وعدہ اور تسلی ہے، جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیتی ہے۔
اگر آج آپ کسی مشکل میں پھنسے ہیں، چاہے وہ معاشی ہو، ذہنی ہو یا سماجی، اور آپ کو لگتا ہے کہ اب کوئی راستہ باقی نہیں بچا، تو یاد رکھیے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ مایوسی کفر ہے اور امید ایمان کا حصہ ہے۔ جس رب نے مشکل ڈالی ہے، اسی نے اس مشکل سے نکلنے کے لیے اپنی رحمت کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ بس اس’’ رحمت ‘‘ پر یقین رکھیے اور امید کا دامن تھامے رکھیے۔ کیوں کہ اللہ کی رحمت آپ کے ہر مسئلے سے کہیں زیادہ بڑی اور وسیع ہے۔